اتوار 28 جون 2026 - 04:51
اگر دشمن نے اب کوئی نئی جنگ شروع کی تو اسے بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑے گا

حوزہ/ ایرانی اعلیٰ اقتصادی رابطہ کونسل کے سیکریٹری نے امریکی نیوز نیشن نیٹورک کو انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: اگر دشمن دوبارہ کوئی غلطی کرے تو اب کے بار اگلی جنگ اب تیسری جارحیتی جنگ جیسی نہیں ہو گی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انقلاب اسلامی کی آٹھ سالہ دفاعی جنگ کے دوران سپاہ کے سابق کمانڈر ڈاکٹر محسن رضائی نے امریکی ٹی وی چینل نیوز نیشن کو انٹرویو دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر دشمن نے اب دوبارہ کوئی غلطی کی تو آئندہ جنگ گزشتہ چالیس روزہ جنگ جیسی نہیں ہوگی بلکہ ایران اپنی نئی دفاعی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گا۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: اس بار دشمن کو بڑے پیمانے پر جانی نقصان اٹھانا پڑے گا۔
محسن رضائی نے کہا: انہیں معلوم ہوا ہے کہ نیوز نیشن کے زیادہ تر ناظرین امریکی خاندان ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایران، غزہ اور لبنان کے معصوم بچوں کو آخر کس جرم میں شہید کیا گیا؟
انہوں نے میناب میں شہید ہونے والے بچوں کی تصاویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ وہ معصوم بچے تھے جو اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ کیا امریکی عوام واقعی ایسی انسانی المیے کے خواہاں ہیں؟
سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا: ایرانی مذاکراتی ٹیم نے نہایت سنجیدگی اور سرعت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا لیکن امریکی مذاکراتی ٹیم ایسے وقت میں مذاکرات میں شریک ہوئی جب اسرائیل پہلے ہی طے شدہ مفاہمتی دستاویز کی پہلی شق کی خلاف ورزی کر چکا تھا۔
انہوں نے کہا: مذاکرات کے دوران بھی ڈونلڈ ٹرمپ جنگی انداز میں ایران کو دھمکیاں دیتے رہے، اس کے باوجود ایرانی وفد نے مذاکرات جاری رکھے تاہم امریکی وفد میں مذاکرات کو آگے بڑھانے کے حوالے سے سنجیدگی نظر نہیں آئی۔
ایرانی اعلیٰ اقتصادی رابطہ کونسل کے سیکریٹری نے کہا: گزشتہ 47 برسوں سے ایران اور امریکہ کے تعلقات میں ایک بنیادی مسئلہ یہ رہا ہے کہ امریکی حکومتوں نے کبھی ایران کے مؤقف کو صحیح طور پر سمجھنے اور قبول کرنے کی کوشش نہیں کی۔
ان کے بقول امریکی حکام ہمیشہ اسرائیلی خفیہ اداروں یا ایران مخالف عناصر کے پروپیگنڈے سے متاثر رہے ہیں اور یہی دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اگر امریکی حکام ایران کے مؤقف کو صحیح معنوں میں سمجھتے اور اس پر یقین رکھتے تو حالیہ جنگوں کا آغاز ہی نہ ہوتا۔
سپریم لیڈر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کی صحت سے متعلق سوال کے جواب میں محسن رضائی نے کہا: رہبر انقلاب مکمل طور پر صحت مند، پرجوش اور فعال ہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں۔
انہوں نے کہا: سکیورٹی اداروں نے حفاظتی تقاضوں کے تحت بعض پابندیاں عائد کی ہیں تاہم رہبر انقلاب مسلسل ملکی اسٹریٹجک امور اور قومی مفادات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: حالیہ مذاکرات کے معاملے میں اگرچہ ان کی ذاتی رائے مختلف تھی لیکن انہوں نے مذاکرات شروع کرنے کی اجازت دی۔
ڈاکٹر محسن رضائی نے امریکی عوام اور خاندانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ایران امریکی عوام کو امریکی حکومت سے الگ سمجھتا ہے اور ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ امریکی عوام کو کوئی نقصان پہنچے۔
انہوں نے کہا: ایران کی طرف سے امریکی عوام کو کوئی خطرہ نہیں لیکن اگر امریکی حکومت یا اس کی فوج جارحیت کرے گی تو ایران پوری قوت سے اپنا دفاع کرے گا۔
انہوں نے اپنے انٹرویو کے اختتام پر کہا: امریکی حکومت کو یہ حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ ایرانی قوم ایک عظیم تاریخی قوم ہے جو کسی بھی دھمکی کے سامنے جھکنے والی نہیں اور ہمیشہ اپنے حقوق کا دفاع کرے گی لہذا امریکہ کو اپنی موجودہ پالیسی ترک کر کے ایک نئی راہ اختیار کرنا ہوگی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha